سموگ کی حقیقت اور بچاؤ کی تدابیر / محمد زابر سعید بدر

Discussion in 'Media Education' started by Zabir Saeed Badar, Nov 12, 2016.

  1. Zabir Saeed Badar

    Zabir Saeed Badar Moderator

    سموگ کی حقیقت اور بچاؤ کی تدابیر

    محمد زابر سعید بدر
    سموگ ہمارے یہاں ایک نیا لفظ ہے لیکن یورپ امریکا، چین، بھارت اور بعض افریقی ممالک میں کئی سالوں سے سنا جا رہا ہے اور اس حوالے سے اقدامات کئے جا رہے ہیں گزشتہ تین دنوں سے لاہور اور وسطی پنجاب کے متعدد شہر سموگ یا آلودہ دھند کی لپیٹ میں ہیں ایک آدھ دن تک تو اس کو دھند ہی سمجھا جاتا رہا اور سردی کی آمد کا اعلان سمجھ کر گرم کپڑے نکالنے شروع کر دیے لیکن جب سردی کا احساس ہونے کے بجائے آنکھوں سے پانی نکلنا شروع ہوا تو ایسا لگا کہ لاہور کا ہر شہری ابھی ابھی رو دے گا اور بعض سرخ آنکھوں کے ساتھ ساتھ کھانس بھی رہے تھے تب معلوم ہو کہ سردی کی آمد نہیں بلکہ آلودگی کا حملہ ہے۔سموگ “فوگ” یعنی دھند اور “سموک” مطلب دھویں سے ماخوذ ایک اصطلاح ہے اس کی ظاہری شکل لاہور اور گرد و نواح کےشہری اپنی نظروں سے دیکھ رہے ہیں، اردو میں ہم اسے گرد آلود دھند یا آلودہ دھند بھی کہ سکتے ہیں کیمیائی طور پر اس میں صنعتی فضائی مادے، گاڑیوں کا دھواں، کسی بھی چیز کے جلانے سے نکلنے والا دھواں مثلاً بھٹوں سے نکلنے والا دھواں شامل ہوتا ہے سموگ کی وجہ سے اوزون کی مقدار فضا میں خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے- اگرچہ اکثر ممالک میں فضائی آلودگی کو مانیٹر کرنے کے لیے آن لائن “ائیر کوالٹی انڈیکس میپ” کا سہارا لیا جاتا ہے جو آپ کو بتاتا ہے کہ آپ کے علاقےمیں فضاء کس حد تک آلودہ ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان کے بارے معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہےکہ سموگ خطرناک ہے یا نہیں تو جناب سموگ بہت خطرناک ہے- اگرچہ اس کے کیمیائی اجزاء اپنی آزادانہ حثیثت میں بھی خطرناک ہوتے ہیں لیکن باہم ملنے کے بعد زہریلے ہو جاتے ہیں، سموگ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں، پودوں اور فطرت کی ہر چیز کو نقصان پہنچاتی ہے چین میں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں افراد سموگ کی وجہ سے جان ہار بیٹھتے ہیں، وہاں 17 فیصد اموات سموگ کی وجہ سے وقوع پذیر ہوتی ہیں سموگ میں زیادہ وقت گزارنے سے مختلف طبی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جیسا کہ سانس لینے میں دشواری، کھانسی یا گلے اور سینے میں جلن: صرف چند گھنٹوں میں ہی سموگ آپ کی پھیپھڑوں کی داخل ہو کر جلن پیدا کر سکتی ہے، تاہم اگر جلن نہ بھی ہو تو یہ آپ کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے سموگ میں سانس لینے میں دشواری ہو سکتی ہے، خاص طور پر گہرے سانس لینا مشکل ہو سکتا ہے اگر آپ دمہ کے مریض ہیں تو سموگ میں جانا آپ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے آنکھوں میں جلن اور جبھن،بعض اوقات گہری سموگ میں زہریلی مادے آنکھوں میں جلن اور جبھن پیدا کرتے ہیں جس کی وجہ سے آنکھیں سرخ ہو سکتی ہیں اور آنسو بہہ سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے اخبارات کے ذریعے احتیاطی تدابیر کرنے کی ہدایت دی ہے جس کے مطابق
    - [ ] حتیٰ المقدور کوشش کریں کہ گھر سے باہر
    - [ ] کھلی فضاء میں نہ نکلیں، اگر گھر سے باہر نکلنا ہو تو علی الصبح نکلیں-
    - [ ] کھلی فضا میں ماسک کا استعمال کریں، کھلی فضا سے واپسی پر آنکھوں اور ناک کو پانی سے دھویں
    - [ ] نومولود اور کم عمربچوں کو کھلی فضا میں لے جانے سے رکیں
    - [ ] دمہ، دل اور پھیپھڑوں کے مریضوں کا خاص خیال رکھیں
    - [ ] بھاری کام کرنے سے پرہیز کریں، کام کے دوران وقفوں کو بڑھا دیں
    - [ ] سموگ سے زیادہ منفی اثرات بچوں اور
    - [ ] جوانوں پر پڑتے ہیں تاہم یہ کسی نہ کسی درجے میں تمام عمر کے افراد کو متاثر کرتی ہے۔وزیر اعلی پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدائت پر 20 رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی جس نے سموگ کے بارے میں ابتدائی رپورٹ پیش کر دی ہے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پنجاب کے متعدد علاقے سموگ کی لپیٹ میں ہیں ،خصوصی کمیٹی نے سفارشات پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سموگ کے دوران بڑی شاہراہوں پر سفر کرنیوالے مسافر احتیاط برتیں شہری بلا ضرورت باہر نکلنے سے گریز کریں ،امراض سینہ میں مبتلا مریض خصوصی احتیاط برتیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک بارش نہیں ہو جاتی تب تک گرد آلود دھند ختم نہیں ہو گی، جبکہ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ آئندہ کئی روز تک بارش ہونے کا کوئی امکان نہیں مزید براں ڈی جی میٹ کے مطابق یہ دھند دسمبر تک جاری رہ سکتی ہےمضر صحت ہونے کے علاوہ یہ سموگ ٹریفک حادثات کا سبب بھی بن رہی ہے اب تک موٹر وے اور دوسری شاہرہوں پرکئی حادثات پیش آ چکے ہیں ان حادثات کی وجہ سےمتعدد افراد زخمی و جاں بحق ہو چکے ہیں ۔سموگ سب سے زیادہ آنکھوں پر اثر انداز ہو رہی ہے جس کی وجہ سے آنکھوں میں جلن اور خارش کاا حساس ہوتا ہے ،خاص طور پر موٹر سائیکل سوار اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے لوگ اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
    - [ ] امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق بھارتی پنجاب میں کسانوں کی جانب سے جلائی جانے والی فصلوں کی باقیات اور گھاس پھوس نذرِ آتش کرنے سے کثیف دھواں فضا میں جاتا ہے جو سرد موسم میں منجمند ہوکر آلودہ دھویں یا سموگ کی صورت میں بھارت اور پاکستان پر چھا جاتا ہےرپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دھند کی وجہ محض دیوالی کی آتش بازی نہیں بلکہ اس میں زرعی فضلے مثلاً چاول کے پھوگ کو لگائی جانے والی آگ بھی شامل ہے۔ اس کی وجہ سے ایک جانب تو معمولاتِ زندگی مثلاً ٹرانسپورٹ اور پروازیں تاخیر کی شکار ہورہی ہیں تو دوسری جانب لوگ سانس اور آنکھوں کے امراض سمیت کئی بیماریوں کے شکار ہورہے ہیں اور یہ انسانی دماغ کو بھی متاثر کرتی ہے۔� سموگ میں کاربن مونو آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ ، میتھین اور کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر ذرات شامل ہوتے ہیں۔ ماحولیاتی آلودگی آج ہمارے لیے ایک ایسے سنگین اور خطرناک مسئلے کے طور پر ابھر رہی ہے کہ جس کا سدباب نہ کیا گیا تو آنے والے دنوں میں ہمارا ماحول اپنے قدرتی اور فطری پن کو کھو بیٹھے گا اور آنے والی نسلیں متعدد بیماریوں میں مبتلا ہوکر معاشرے کو ایک اذیت زدہ معاشرہ بنادے گی، جس طرح ماحولیاتی آلودگی مسلسل بڑھتی جارہی ہے اسی طرح دنیا بھر میں موسمی تبدیلی بھی تیزی سے رونما ہورہی ہے اور ماہرین موسمیاتی تبدیلیوں کو دہشت گردی سے بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ آلودگی ہمارے دور کا سب سے سنگین اور گمبھیر مسئلہ بن چکا ہے۔موسمیاتی و موحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات پر مکمل قابو تو حضرت انسان کو کبھی تھا اور نا ہی کبھی ہوگا تاہم احتیاطی تدابیر اختیار کرکے جانی و مالی نقصانات کے ممکنہ خدشات سے حتی الامکان بچا جاسکتا ہے اسی طرح ماحولیاتی آلودگی بھی وہ اہم اور مستقل خطرہ ہے جس پر قابو پانے کا سوال آج ہر ذہن میں گونج رہا ہے کیوں کہ آلودگی اپنے ساتھ جو سنگین مشکلات لے کر آتی ہے اس پر قابو پانا کوئی معمولی بات نہیں اور اس کے نقصانات تو الگ ہیں ہی ہہزاروں کارخانے، لاکھوں گاڑیاں اور کروڑوں گھر توانائی کے ان ذرایع کو استعمال میں لارہے ہیں اور ان کے استعمال سے پیدا ہونے والی زہریلی گیس و مادہ فضا میں تحلیل ہورہی ہیں دہلی لندن، لاس اینجلس اور ٹوکیو اس حوالے سے خاصے بدنام ہیں۔ پاکستان میں لاہور اور کراچی میں اب یہی صورتحال پیدا ہورہی ہے اس لیے آپ نے دیکھا ہوگا کچھ عرصے سے کراچی اور لاہور میں آنکھوں کی جلن، سانس میں دشواری، کھانسی، گلے، ناک اور کان کی بیماریاں اور پھیپڑوں کی بیماریاں عام پھیل رہی ہیں اور الرجی کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہورہاہے، لاتعداد افراد ان بیماریوں کا شکار ہوچکے ہیں اور بتدریج ہورہے ہیں، ماہرین کے مطابق ملک میں جنگلات کے رقبے میں اضافے سے نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کنٹرول کی جاسکتی ہے جنگلات کی وجہ سے قائم ہونے والا ماحولیاتی توازن فصلوں کو طوفان اور دیگر قدرتی آفات سے محفوظ رکھتا ہے۔ جنگلات فصلوں کی پیداواری اہمیت برقرار رکھتے ہیں، مختلف صنعتوں میں ماحول کو صاف ستھرا اور صحت مند رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو سب سے زیادہ جذب کرتے ہیں بین الاقوامی ماہرین کے مطابق جنگلات ،درخت پودے، سبزہ ہریالی فطرت کے ماحولیاتی نظام کا بہت اہم حصہ ہیں اور ان کے ذریعے بخوبی ماحولیاتی و موسمی آلودگی اور تبدیلیوں پر موثر انداز میں قابو پایا جاسکتا ہے۔لاہور میں سموگ اور فضائی آلودگی کو روکنے کے اقدامات نہ کرنےپر
    - [ ] مقامی شہری ولید اقبال نے ہائی کورٹ میں دائراپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہو چکا ہے،سموگ اور فضائی آلودگی نے ایک کروڑ لاہوریوں کو متاثر کیا ،جس کی وجہ شہر میں بے ترتیب ترقیاتی منصوبوں سے ہوا اور فضا میں مٹی شامل ہونا ہے
    - [ ] اسی حوالے سے
    - [ ] ہالینڈ کے ڈان رْوزگارڈ
    - [ ] نے ’’سموگ فری ٹاور‘‘ کے نام سے ایک ایسی چمنی نما مشین بنالی ہے جو ہوا صاف کرنے کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی کو دلکش زیورات میں بھی تبدیل کرتی ہے۔ 6 کونوں والی چمنی کی طرح دکھائی دینے والی اس مشین کی اونچائی 23 فٹ ہے اور یہ 1,400 واٹ بجلی استعمال کرتے ہوئے، ہر گھنٹے میں 30 ہزار مکعب میٹر ہوا صاف کرسکتی ہے۔دو روز قبل جب اس گرد آلود دھند نے لاہور کو اپنی لپیٹ میں لیا تو میں پنجاب یونیورسٹی میں تھا میری آنکھیں جل رہی تھیں اور پانی مسلسل بہ رہا تھا گلے میں خراش محسوس ہو رہی تھی اور حیرت کی بات یہ تھی کہ زیادہ تر لوگ اس کو دھند سمجھ کر نظر انداز کر رہے تھے اور یہی ہماری قوم کا بحثیت مجوعی مزاج بھی ہے خطرہ ہمارے سامنے ہوتا ہے لیکن ہم نے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کی ہوتی ہیں لیکن اب ہمیں بہت سنجیدہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے خطرہ اب ہمارے سروں پر آن پہنچا ہے سوشل میڈیا نے حسب روائت غیر سنجیدہ رویے کا مظاہرہ کیا اور ساری ذمہ داری بھارت پر ڈال دی کہ بھارت نے کوئی سائینسی تجربہ کیا ہے اور سموگ بم لاہور پر گرایا ہے لیکن انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ دہلی بھی اسی صورتحال سے دوچار ہے کیا اس نے لاہور کے ساتھ ساتھ اپنے دارالحکومت
    - [ ] پر بھی بم گرایا؟ اسی طرح اور بھی کئی غیر سنجیدہ باتیں اور بھی گردش کرتی رہیں کہ آنسو گیس کے استعمال کی وجہ سے ہے۔ حکومت اور اب آلودگی کے حوالے سے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے اور عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا اپنے رویے بدلنے ہوں گے تب جا کر ہم اس خوفناک حد تک خطرناک صورتحال پر قابو پا سکتے ہیں۔

    -زابر سعید پچاس کتابوں کے مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ ممتاز صحافی،محقق اور ابلاغ عامہ کی درس و تدریس سے وابستہ ہیں)



    LikeShow More Reactions
    CommentShare
     

Share This Page