پاکستانی صحافت اور ہماری ذمہ داری

Discussion in 'National Journalists Council' started by Nasir M Malik, Jan 31, 2014.

  1. Nasir M Malik

    Nasir M Malik New Member


    آج جب دنیا ایک وسیع تر گاوں کی شکل اختیار کر چکی ہے ،،اور ترقی و تمدن کی انتہاووں کو چھو رہی ہے ،،،ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کا ہر شخص اور ادارہ بغیر کسی معین ہدف کے اندھوں کی مانند ٹامک ٹوئیاں مار نے میں مصروف ہے ،،،ہم بحثیت مجموعی ہر شعبہ میں زوال اور تنزلی کا شکار ہی نہیں ،،،عمومی طور پر اپنے مستقبل سے ناامید بھی ہوتے جا رہے ہیں اس صورتحال میں جہاں ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال سے عہدہ برا ہونے کے لیے اپنے حصے کی کوشش کرے بلکہ بطور مجموعی بھی ہر شعبے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کے تدارک کے لیے بحثیت مجموعی اقدامات کرے ،،،
    اس سلسلہ میں ہر ایک شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو اپنے حصے کا کام ضرور کرنا چاہیے یہی واحد راستہ ہے موجودہ حالات سے نکلنے کا ،اگر چہ اس کاوش میں ہر فرد اور ہر شعبہ کا کردار اہم ہے مگر ان سب سے اہم کردار صحافت کا ہے میں پوری ایمانداری سے یہ سمجھتا ہوں کہ یہی وہ واحد شعبہ ہے جو پوری سرعت سے تبدیلی کی نہ صرف راہ ہموار کر سکتا ہے بلکہ اسے مہمیز بھی دے سکتا ہے ،،،
    مگر اس مقصد کے لیے لازم ہے کہ اس شعبہ کو نہ صرف کالی بھیڑوں اور بد کردار لوگوں سے پاک کیا جائے ،،،بلکہ جو سہی اور دیانتدار لوگ اس میں ہیں ،،،ان کو بھی ایک مضبوط اور مربوط لڑی میں پرویا جائے اور انہٰیں اس ضمن میں انکی اہمیت ،افادیت اور اہلیت سے آگاہ کیا جائے اور اس مقصد کے لیے ایک جامع پلیٹ فارم بھی مہیا کیا جائے ،جس سے وہ اپنی پوری صلاحیت کے مطابق ملک و قوم اور معاشرہ کی اصلاح اور فلاح کا کام کر سکیں !!! اگرچہ یہ ایک انتہائی محنت طلب اور طویل جہدوجہد ہے مگر ہمیں یاد رکھنا ہو گا کہ ہزار میل کا سفر بھی ہمیشہ پہلے قدم سے شروع ہوتا ہے ،،،

    سو اسی پہلے قدم کے سلسلہ میں ہم ایک نئی صحافتی تنظیم کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں ،،یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ایف یو جے اور اس طرز کی سیکڑوں صحافتی یونینز اور پریس کلبز کے ہوتے ہوئے کسی نئے پلیٹ فارم کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی ،،،اس کا سیدھا سادہ جواب یہ ہے کہ پی ایف یو جے سمیت جملہ صحافتی تنظیمیں یا تو اپنے مقاصد میں واضح نہیں ہیں کہ انکی منزل کیا ہے یا پھر وہ اپنے مقاصد سے بہت دور جاچکی ہیں اور صرف ایک مخصوص اوپر کے طبقہ کے صحافیوں کی اجارہ داری اور ملکیت کا شکار بن چکی ہیں،،،ملک وقوم اور عام شہری تو کجا انکو تو عام صحافی سے بھی کوئی سروکار نہیں ،،،بلکہ ملک پھر میں چند درجن افراد نے اپنی ایک دنیا تشکیل دے رکھی ہے ،،،یہاں ہمارا مقصد کسی کو تنقید کا نشانہ بنانا ہر گز نہیں مگر ان پہلووں کی نشاندھی کرنا ہے جن کی وجہ سے ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ موجودہ تنظیمیں قطعی غیر مفید ہیں ،،،
    اس ساری بات کو مختصر طور پر صرف اتنا کہہ کر ختم کرنا چاہوں گا کہ پی ایف یو جے اور نیشنل پریس کلب سمیت ملک بھر میں کسی بھی تنظیم کے آئین اور دستور میں صحافی کی کوئی جامع تعریف ہی نہیں ،،،نہ ہی صحافت کی کوئی مخصوص تعریف ہے اسی پر بس نہیں ،،،نام نہاد قائدین صحافت کو خود بھی یہ پتہ نہیں کہ صحافت کیا ہوتی ہے اور کون صحافت کرنے کا اہل اور صحافی کہلانے کا حقدار ہے ،،،وہ دوسروں کی کیا خاک رہنمائی کرینگے ؟؟اس سلسلہ میں دوست پی ایف یو جے اور اس میں شامل تمام یونینز کے دستور عمل دیکھ سکتے ہیں ۔وطن عزیز میں صحافت مفادات کی آبیاری ،کرپشن ،بدعنوانی کو چھپانے کا ہتھیار اور مال اکھٹا کرنے کا وسیلہ بن کے رہ گئی ہے جسکے نتیجہ میں صحافت جو قوموں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہے ہمارے ملک اور معاشرے کے لیے ایک مصیبت کا رخ اختیار کر چکی ہے اسکا کرادار تعمیری کی بجائے تخریبی اور عمل دیانت کی بجائے لعنت بن چکا ہے چند ایک کو چھوڑ کر ہماری صحافت ایک غلاظت کا جوہڑ بنتی جا رہی ہے ،،،،وقت آگیا ہے کہ اس صورتحال کا انتہائی سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے اور فوری طور پر اسکا تدارک کیا جائے ،،،

    ہمارا ایک خواب ہے کہ ایک ایسی تنظیم کی بنیاد رکھیں ،،جس میں صرف دیانتدار ،ایماندار،مخلص ،محب وطن اور قانون پسند صحافی شامل ہوں ،،،جو صحافت کو ایک مقدس پیشہ سمجھ کر سر انجام دینے کی خواہش اور اہلیت رکھتے ہوں ،،،اس تنظیم کا دائرہ سارا ملک ہو،،، اور وہ شخص جو کہ کہیں نہ کہیں کسی نا کسی درجہ کی صحافت میں اوپر بیان کیے گئے اوصاف کے مطابق شریک ہو اس کو اس تنظیم کا رکن بنایا جائے ،،،،اور اسکی رکنیت محض بنیادی تحصیل سے ہی ہو گی ،،کسی بھی شخص چاہے وہ کتنا ہی بڑا صحافی کیوں نہ ہو ڈائریکٹ ممبر نہ نہیں بن سکے گا ،،،اور اپنی ممبر شپ برقرار رکھنے کے لیے اسے اپنی متعلقہ تحصیل کی ممبر شپ برقرار رکھنا ہو گی،،،،اس طرح ہر شخص چاہے وہ کسی بھی پوسٹ پر ہو اسے اپنے بنیادی حلقہ کے مسائل و مشکلات کا ادراک رہے گا ،،،دوسرا تمام لوگ اپنے متعلقہ ایریا میں بہتر اور صاف ستھری صحافت کے لیے کوشاں رہیں گئے ،،،،ساتھ ساتھ کسی بھی تحصیل کو مختلف حصوں میں بانٹ کر اس علاقہ کے صحافیوں کو چھوٹے چھوٹے ایریا دیکر ،،ان کے تمام مسائل ،مشکلات اور خرابیوں پر مکمل نظر رکھی جا سکے گی ،،،،اور مسائل کے حل کے لیے ،،حکومت و دیگر سرکاری مشینری سے بہتر مدد لی جاسکے گی ۔۔۔۔انہی چھوٹے علاقوں میں قائم سرکاری و نیم سرکاری اور نجی ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں سے تنظیم کی سطح پر ممبر صحافیوں اور انکے اہل خانہ کے مفت / رعایتی علاج اور تعلیم کے لیے معاہدات کیے جاسکیں گئے ،،،مرکزی کونسل میں ہر ضلع سے دو ممبران لیے جائیں گئے اور اس طرح کسی بھی مخصوص علاقہ کی اجارہ داری قائم نہیں ہو سکے گی ،،،
    ماہانہ ،سہ ماہی ،شش ماہی اور سالانہ بنیادوں پر صحافیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیکر ان کو اسناد دی جائیں اور انکی حوصلہ افزائی کے لیے دوسرے طریقے اختیار کیے جائیں ،،،ہر صحافی کی معاشی مضبوطی اور استحکام کے لیے مربوط کوششیں کرنے کا انتطام کیا جا سکے گا،حکومت سے صحافیوں کے سروس سٹریکچر کے لیے قانون سازی کے لیے جامع اور بھرپور کوششیں کی جاسکیں گئی،،میڈیا مالکان اور اداروں سے ملکر ایک جامع پالیسی صحافیوں اور میڈیا مالکان کے مفادات کو مدنظر رکھ کر بقا باہمی کے اصول پر تشکیل دی جا سکے گی ،، جسے بعد ازاں حکومت کی مدد سے قانون کی شکل دی جاسکتی ہے ،،،

    اگر اس خواب کو اس کی روح کے مطابق عملی جامعہ پہنایا جاسکے ،جو ہمیں اللہ رب العزت سے پوری امید ہے کہ اس کے فضل و کرم عام صحافی کی محنت اور پسے ہوئے مظلوم طبقات کی دعاووں سے ایک روز ضرور عملی شکل اختیار کرے گا،،،تو یقین مانیے ملک و قوم کی تقدیر سالوں اور مہینوں میں ،،،دنوں اور ہفتوں میں تبدیل ہو سکے گی ،،تصور کیجیے کہ ایک دور دراز اور پسماندہ ترین تحصیل کی ایک مزید پسماندہ ترین یونین کونسل جہاں سمگلروں ،اور جرائم پیشہ طالموں کی عملی حکومت ہے اور کوئی انکی منشا کے بنا سانس بھی نہیں لے سکتا وہاں کے غریب اور محروم افراد کی تھانہ کچہری سے لیکر جرگہ تک کوئی شنوائی نہیں ہوتی اور آج کی مفاداتی صحافت کو ان سے کوئی سروکار ہی نہیں ،،،،،،چشم تصور سے دیکھیے کہ جب اس یونین کونسل کے اندر ایک تربیت یافتہ ،اپنے مقصد سے آگاہ اور اپنی دھن کے پکے ایک نڈر صحافی کی صرف یہی ذمہ داری ہو گی کہ اس نے اپنی یونین کونسل میں خرابیوں اور مسائل کی نشاندھی کرنی ہے ،،،اور اسے پتہ ہو گا کہ اس کے ساتھ اس کی تحصیل یا ضلع کے نہیں ،،،خیبر سے کراچی تک پورے ملک کا میڈیا اور صحافی برادری اس کی پشت پر ہے ،،،جو اس کے ہر طرح کے مسائل کے حل کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہے ،،،تو اس کی کارکردگی کیسی ہو گی اور وہاں خرابیوں کو چھپانا کب تک ممکن ہوگا ،،،اور حکومتی و سماجی ادارے کب تک اپنے فرائض سے غفلت برت سکیں گئے،،،،یقین مانیے ایک دیانتدار اور چابکدست صحافت ہمیں اس منزل سے ہمکنار کر سکتی ہے جس سے کوئی پارٹی اور رہنما آج تک قوم کو آگاہ بھی نہیں کر سکی ،،،،،،،،،،،،،،تو کیا آپ ہمارے ساتھ چلیں گئے پاکستان کی تعمیر کے اس سفر میں ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
    ناصر محمود ملک
    مرکزی ترجمان
    نیشنل جرنلسٹس کونسل پاکستان
    [/font]
    [/size][/size][/SIZE]
     
    malik aqib ullah likes this.
  2. Fatima Iqbal

    Fatima Iqbal New Member

    Bohat Khoob
     
    Nasir M Malik likes this.
  3. aftab gondal

    aftab gondal New Member

    Good
     
    Nasir M Malik likes this.
  4. Bill_Clinton

    Bill_Clinton New Member

    اقبال بڑا اُپدیشک ہے ، من باتوں میں موہ لیتا ہے
    گفتار کا غازی بن تو گیا ، کردار کا غازی بن نہ سکا

    یہی عالم ہے پاکستان کا
     
    Nasir M Malik likes this.
  5. Khizer Shah

    Khizer Shah New Member

    Nice Post Shukria
     
    Nasir M Malik likes this.
  6. bukhari4u

    bukhari4u New Member

    Nasir M Malik likes this.
  7. Abdul Razzaq_786

    Abdul Razzaq_786 Online Writing & Marketing Student

    men khud bhi isi natijay par pohncha hon. is bat ka mujhay shiddat sy ahsas Moulana Tahirul Qadri ki tehrik ke doran hua. You are right.
     
    Nasir M Malik likes this.
  8. Nasir M Malik

    Nasir M Malik New Member

    بہت شکریہ تمام احباب کا
     
    malik aqib ullah likes this.
  9. malik aqib ullah

    malik aqib ullah New Member

    Bhot khob.. and we are with you..
     

Share This Page